اگر زندگی میں آپ کچھ کرنا چاہتے ہیں تو اس کا صحیح وقت آج اور ابھی سے ہے۔ لیکن اگر آپ اس کام کو ٹالتے گئے تو وہ کام پھر کبھی نہیں ہوگا۔
جب ایک مقصد حاصل کرنے کا فیصلہ کرلیا تو بس اس کام کی صرف پلاننگ ہی نہیں کرنی ہوتی بلکہ اس پر عمل کرنے کے لیے، اسے حقیقت کے طور پر دیکھنے کے طور پہلا قدم اٹھانا ہوتا ہے۔ بس جب آپ پہلا قدم اُٹھانے کی کوشش کریں گے تو یہی سمجھ لیجئے کہ آپ اپنی منزل کی جانب بڑھنا شروع ہو گئے۔
اب اکثر لوگ منصوبہ بندی تو کر لیتے ہیں مگر منزل کی جانب نہیں بڑھ پاتے؛
مقصد کو حاصل نہیں کر پاتے! تو اس کی وجہ، باوجود کوشش کے وہ تلاش نہیں کر پاتے۔ تو جانتے ہیں کہ اس کی وجہ کیا ہے!!؟؟؟
جی! اس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ وہ روزانہ پلاننگ نہیں کرتے!
اور سب سے بڑھ کر اس کام کے لیے وقت مقرر نہیں کرتے؛
اس طرح وہ کام تاخیر کا شکار ہو جاتا ہے۔ دن پورا یونہی ضروری غیر ضروری کاموں میں گزر جاتا ہے، اور جب انسان تھکا ہوا ہو تو وہ کام کیسے وقت پر کر سکے گا۔ یوں بالآخر دن یونہی گزرتے چلے جاتے ہیں۔ کل پر کام چھوڑتے ہیں اور وہ کل کبھی آتی نہیں؛ اس طرح آپ مایوس ہو جاتے ہیں۔ ساتھ ہی پھر یہ بھی سوچتے ہیں کہ شاید یہ کام اب کبھی نہیں ہو سکے گا۔ اس طرح آپ جانب منزل نہیں پہنچ سکتے۔
اس کا بہترین حل یہی ہے کہ آپ روزانہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھائیں۔ کیونکہ ٹکروں کی صورت میں کام کرنا آسان ہوتا ہے۔ طبیعت پر بوجھ بھی محسوس نہیں ہوتا۔ اور جب آپ روزانہ تھوڑا تھوڑا کرتے چلے جاتے ہیں تو یوں آپ کا وہ کام جلد مکمل ہو جاتا ہے۔
اور یہ بات بھی ضرور یاد رکھیے گا کہ جب آپ آج کے دن کسی بھی مقصد کے لیے وقت مقرر نہیں کرتے، تو پھر وہ کام تاخیر کا شکار ہو کر ہوتا ہی نہیں ہے۔ اسی لیے جب آپ پلاننگ کریں گے تو ساتھ ہی آپ سال کے بجائے، آپ مہینے کی پلاننگ کیجئے۔ پھر اندازہ لگائیں کہ روزانہ کتنا وقت اس کام کو دیں گے کہ وہ کام اس مہینے میں مکمل ہو جائے گا۔ جب اس بات کا اندازہ لگا لیا تو آپ کو یہ حساب ہو جائے گا کہ میں نے روزانہ اتنا ورک لازمی کرنا ہے۔
بس پھر آپ روزانہ ایک صفحے پر صبح روزانہ کا ٹاسک لکھ لیجیۓ؛
کہ آج یہ ٹاسک اور اس وقت کرنا ہے۔ پھر آپ کا ذہن، آج کے دن ایکٹو ہو جائے گا۔ کیوں کہ آج کے دن کا ٹاسک آپ نے ذہن کو دے دیا ہوگا۔ جب وقت جو مخصوص کیا ہوگا وہ آئے گا تو آپ اس مقصد کے لیے پوری طرح ایکٹو ہو جائیں گے۔ آپ ورک بھی کر لیں گے۔
اور یقین کیجئے جب آپ اسی طرح روزانہ کا ٹاسک ایک صفحے یا ڈائری پر لکھ کر رکھیں گے۔ اور وقت بھی مخصوص کریں گے۔ اور سب سے پہلے اسی کام کو کرنے کی کوشش کریں گے وقت مقررہ پر۔۔اور وقت بھی آپ کا یکسوئی اور انرجی سے بھرپور ہوگا۔ اور اس کے ساتھ ساتھ آپ محنت و مشقت اور مستقل مزاجی سے ڈٹ جائیں گے تو آپ یقین کیجئے کہ آپ اپنے مقصد کی طرف جلد گامزن ہوتے چلے جائیں گے۔
اور یہی طریقہ کار ہے کسی بھی مقصد کو حاصل کرنے کا، جب پلاننگ کرلی، آج کا دن کا ٹاسک لکھ لیا، وقت مخصوص کر لیا، روزانہ کے حساب سے مستقل مزاجی سے کرتے چلیں گئے۔ اور پھر اس مقصد کو حاصل کر لیں گے۔ کیونکہ کام کام کو کرنے سے ہوتا ہے۔ آگے بڑھنے سے ہوتا ہے۔ قدم بڑھانے سے منزل ملا کرتی ہے۔ سب سے بڑھ کر اس کام کے لیے وقت مقرر کرنے سے بھی کام جلد ہوا کرتا ہے۔ سب سے بڑھ کر روزانہ کرنے سے، آپ منزل کی جانب بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ یوں آپ مقصد کو حاصل کر لیتے ہیں۔ تو بس کام صحیح وقت آج کرنا، ٹاسک خود کو دینا اور وقت مقرر کرکے کرنے میں ہے۔
مریم حسن


