اپنے رازوں کی حفاظت کیوں ضروری ہے؟ ماضی کی غلطیوں سے نکل کر سکون سے جینا سیکھیں

 اگر آپ خوش رہنا چاہتے ہیں تو آپ کو چاہیے کہ اپنے رازوں کی حفاظت کریں۔ کیوں کہ جو رازوں کی حفاظت نہیں کرتا وہ زیادہ تر ندامت اُٹھانے کے ساتھ ساتھ رنج و غم میں مبتلا ہو جاتا ہے۔

کوئی بھی انسان گناہوں سے پاک نہیں۔ انسان ہونے کے ناطے آپ سے کبھی ایسی غلطی ہوجاتی ہے جس کا ازالہ ممکن نہیں ہوتا۔ آپ غم میں مبتلا ہو جاتے ہیں:”ہم سے ہی یہ غلطی کیوں ہوئی!!!؟”
کیوں کہ آپ نے وہ گناہ یا غلطی کرنے کا کبھی بھی سوچا نہیں ہوتا مگر جانے انجانے میں ایسی غلطی ہو جاتی ہے جس کو ہم ٹھیک کرنا بھی چاہے تو کبھی ٹھیک نہیں کر سکتے۔
اللہ نے جب گناہ کا پردہ رکھا ہوتا ہے۔
تو اسے فاش نہ کیا جائے۔ جب اللہ نے عزت دی ہے تو آپ کیوں خود کو رسوا کرنا چاہتے ہیں!!؟
لیکن ہر کسی کو بتا بھی نہیں سکتے۔۔۔ اور خود کو معاف بھی نہیں کیا جاسکتا!!!!
اور اگر بتا بھی دیا جائے تو آپ کی خیر نہیں۔۔
بعض اوقات زندگی موت کے معاملے تک بات پہنچ جاتی ہے۔ اگر زندہ چھوڑ بھی دیا جائے تو کم از کم اس معاشرے میں آپ کو بے قدری کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔
کوئی بھی آپ کو ڈھنگ سے جینے نہیں دے گا۔ آپ کو ہر لمحے غلطی کا ایسا احساس دلایا جائے گا کہ آپ ڈپریشن میں جاتے جائیں گے۔
جب ہر طرف سے یہی احساس دلایا جائے گا کہ آپ نے غلطی کی، اگر ایسا نہ کرتے تو ایسا نہ ہوتا اور پھر جب مسلسل ہر طرف سے تیر چلائے جائیں تو خود ہی آپ اپنے آپ کو معاف نہیں کر سکیں گے۔ زندگی نہیں جی سکیں گے۔
ایک اعرابی کا قول ہے:
“میں ایسا راز چھپا رہا ہوں جس میں گردن ماری جا سکتی تھی” اگر اعرابی بتا دیتا تو وہ قتل کر دیا جاتا۔
اگر آپ سے ناچایتے ہوئے بھی قتل ہوگیا یا کوئی بڑی غلطی ہوگئی آپ کو بعد میں احساس ہوا کہ یہ کیا ہو گیا جب کہ ایسا تو آپ بالکل نہیں چاہتے تھے۔۔اور پھر آپ کے دل و دماغ میں منفی خیالات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ ایسے شروع ہوتا ہے جو آکاش بیل کی مانند دل و دماغ کو جکڑ لیتا ہے۔ آپ خود کو معاف نہیں کر پاتے۔ آپ زندگی کو جی نہیں سکتے۔
کسی مقصد کی طرف قدم بڑھا نہیں پاتے:
“کیوں میں نے ایسا کیا!!؟”
“مجھ سے ایسی خطا نہیں ہونی چاہیے تھی، جس کا کبھی میں نے سوچا بھی نہیں تھا”
ماضی میں ہونے والی غلطیوں کو یاد کرنا یہ بے وقوفی اور حماقت ہے جس سے ارادہ کمزور اور زندگی مکدر ہو جاتی ہے۔
ماضی کو سوچنا ایسا ہے جیسے کہ پسے ہوئے آٹے کو دوبارہ پیسنا۔۔علماء کہتے ہیں کہ ماضی کی فائل کو بند کرکے رکھ دینا چاہیے۔ اسے بھلا کر نئی زندگی کی شروعات کرنی چاہیے۔
کیوں کہ ماضی کو یاد کرتے رہنے وقت کا ضیاع، حال کی خوشیوں کا قتل ہے۔ اللہ نے جب پچھلی قوموں کا ذکر کیا تو یہی کہا:”ایک قوم تھی جو گزر چکی”
مطلب ان قوموں کا معاملہ ختم، وہ گزر گئی، ان کو یاد کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔
لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا اس طرح پریشان رہنے سے آپ اپنی غلطی کو درست کر سکتے ہیں!!!؟
کیا اس طرح ماضی کا رونا رونے سے ماضی واپس آ سکتا ہے!!!؟
کیوں کہ جو چھوٹ گیا وہ کبھی واپس نہیں آ سکتا اس کے سائے سے پیچھا چھڑانے کی کوشش کیجئے۔
اور یہ بات آپ اور ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ فوت شدہ کبھی واپس نہیں آئے گا۔
دریا کو اصل کی طرف، سورج کو مطلع کی طرف، بچہ کو ماں کے پیٹ میں واپس نہیں لا سکتے۔ دودھ کو چھاتی میں اور آنسو کو آنکھ میں واپس نہیں لا سکتے۔
تو پھر ایسا کیا کیا جائے کہ ہم ماضی کو بھلا کر زندگی جی سکیں۔ تو اس کے حوالے سے قرآن سے رہنمائی ملتی ہے۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے غلطی سے قبطی کو مار ڈالا۔ تو وہ مدین کی طرف نکل گئے اور وہاں ان کی حضرت شعیب علیہ السلام سے ملاقات ہوئی۔ وہ نبی تھے تو انھوں نے اپنا سارا دکھ درد حضرت شعیب علیہ السلام سے بیان کر ڈالا:
لاتخف نجوت من القوم الظالمین
پریشان نہ ہو تم ظالم لوگوں سے بچ کر آ گئے ہو۔
انھوں نے تسلی دی۔ اور یہ کہا کہ تم بچ گئے ہو۔
تو اس سے معلوم ہوا کہ کسی اللہ کے ولی یا نیک بزرگ عالم سے اپنی غلطی راز کا کہنا چاہیے۔ جو عالم ہو جو آپ کو بتائے۔ جو آپ کو تسلی دے، امید دلائے نہ کہ وہ آپ کی ساری امید ختم کردے۔
اپنی غلطی/گناہ یا راز جو آپ کسی سے نہ کہ سکتے ہو مگر اندر ہی اندر آپ کو کھا رہا اور سمجھ نہیں آرہی ہو کہ کیسے اپنی غلطی کی درستگی کی جائے۔ کیسے ان خیالات سے چھٹکارا پایا جائے۔ کیسے خود کو معاف کیا جائے۔ ان سب کے لیے کس کو منتخب کیا جائے!!؟ کس سے دل کی بات کی جائے!!!؟
“جو مخلص ہو۔ جو راز رکھ سکتا ہو۔ جو نا امیدی کے جنگل میں امید کا چراغ جلانے کا ہنر جانتا ہو۔ جو ماضی کو بھلا کر اک نئی زندگی کے دریچے وا کرنا جانتا ہو۔ جو آپ کو یہ بتائے کہ غلطیاں انسانوں سے ہی ہوتی ہے۔ پریشان نہ ہو۔ جو ہوا اسے بھلا کر اب آگے بڑھو”
اس کی رہنمائی قرآن سے ملتی ہے۔ جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت شعیب علیہ السلام کا انتخاب کیا تھا۔ تو ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اب جو اولیاء اللہ ہے جو نیک بزرگ بیعت وغیرہ کرتے ہیں۔۔ جو بڑے عالم ہو ان سے یہ سب شئیر کریں۔ تاکہ وہ آپ کو تسلی دے اور آپ ماضی کو بھول کر حال میں جی سکیں۔
عالم کی تائید تو ایک حدیث سے بھی ہوتی ہے۔ (حدیث کا مفہوم ہے کہ پہلی امتوں میں ایک شخص نے ننانوے قتل کیے اور لوگوں سے پوچھا کہ روئے زمین پر کوئی بڑا عالم ہے جس سے توبہ کے حوالے سے پوچھا جائے۔
لوگوں نے جب اسے راہب کا بتایا گیا تو راہب نے یہی کہا کہ بخشش نہیں ہوگی تو اس شخص نے اس راہب کو قتل کرکے سو قتل پورے کیے۔ پھر لوگوں سے پوچھا کہ کوئی عالم ہے اس روئے زمین پر۔۔
تو جب لوگوں کے بتانے پر عالم کے پاس گیا تو عالم نے کہا: ” توبہ قبول ہو سکتی ہیں”) اس حدیث کے مفہوم سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ جب بھی کوئی غلطی ہو تو کسی عالم سے رہنمائی لی جائے۔ تاکہ وہ آپ کو بتائے کہ توبہ قبول ہو سکتی ہیں۔ اللہ معاف کرنے والا ہے۔ نا امید مت ہو مایوسی کفر ہے۔ شیطان مایوس کرنا چاہتا ہے۔ اور اللہ کو مایوس انسان نہیں پسند۔ اللہ کو تو توبہ کرنے والا اور امید رکھنے والا انسان پسند ہے۔
اے پیارے انسان!
اگر آپ سے کوئی غلطی بھی ہوگئی یا کوئی گناہ ہوگیا۔ اس رب نے جب اس گناہ کا راز رکھا ہوا ہے تو آپ پر بھی فرض ہے کہ آپ اپنے گناہوں کو لوگوں کے سامنے فاش کرکے خود کو رسوا مت کیجئے۔
اگر اللہ تعالیٰ چاہتے آپ کس راز فاش کرنا تو لوگو کے سامنے فاش کر دیتے۔ مگر اللہ کو آپ محبوب ہے۔ اللہ نے ننانوے قتل والے انسان کو معاف کردیا تو کیا آپ کو معاف نہیں کرے گا!!!؟
اللہ بڑا غفور الرحیم ہے۔ اللہ سے امید رکھیے وہ آپ کو معاف کردے گا، ان شاءاللہ۔
عمربن عبدالعزیز رحمہ اللہ کا نہایت ہی عمدہ قول ہے
ترجمہ: دل رازوں کا برتن ہے ، دونوں ہونٹ اس کا تالا ہیں اور زبان اس کی کنجی ہے پس ہر آدمی اپنے راز کی کنجی کی حفاظت کرے یعنی اپنی زبان کی حفاظت کرے۔
پس اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ بہترین زندگی گزاریں تو آپ اپنے رازوں کی حفاظت کیجئے۔ اپنے معاملات میں درستگی پیدا کیجئے۔
لوگوں سے راز کی بات کہ دینا ہمارے دل کی کمزوری ہے۔ یہ ہم انسانوں کا ایک پرانا اور گہرا مرض ہے۔ نفس سے راز پر صبر نہیں ہوتا اور وہ دوسروں سے کہ دیتا ہے۔
اس وجہ سے پھر اسے ندامت کے گھونٹ پینے پڑتے ہیں اور ساتھ ہی رنج و غم کی الگ کیفیات میں جا پڑتا ہے۔ رنج و صدمہ غم ارادے کمزور اور زندگی خراب ہو جاتی ہے۔ عمر کم ہوتی ہے۔
ایک دینار والے انسان نے 10 دینار ایک اعرابی کو دئیے۔ اعرابی سے راز کے حوالے سے صبر نہ ہوا۔ وہ افشا کرنا چاہتا تھا تو اس نے دینار والے کو دینار واپس کرکے اعرابی نے راز افشاء کر دیا۔
یوسف علیہ السلام کو ان کے والد نے کہا تھا کہ
“اپنا خواب اپنے بھائیوں سے بیان نہ کرنا”
اور اسی طرح اصحاب کہف کے بارے میں ہے کہ
ان کے حوالے سے قرآن مجید میں کہا گیا:
“چاہیے کہ لطف سے کام لے اور تمہیں کوئی محسوس نہ کر سکے”
ان قرآنی تراجم سے معلوم ہوا کہ راز کو دل میں ہی رکھنا چاہیے۔ پس بیان کیا جائے تو بزرگ یا بڑے عالم سے بس ۔۔۔ اور لوگوں سے نہ کہا جائے بلکہ نرمی سے کام لیں اور خاموشی اختیار کی جائے۔ تو وہ نجات پا جائے گا۔
ویسے بھی حدیث مبارکہ میں یہی فرمایا گیا:
“من صمت نجا”
“جو خاموش رہا اس نے نجات پائی”
اب بات یہ آتی ہے کہ خود کو کیسے مصروف رکھا جائے تاکہ یہ خیالات وساوس تنگ نہ کریں!!؟
تو اس کا بہترین حل یہی ہے کہ
اللہ نے سب انسانوں اور جنات کو اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا۔ تو زندگی کی مقصد کو جانا جائے۔ یہ زندگی مختصر سی ہے۔ اسے انجوائے کیا جائے۔ خوشی سے جیا جائے ہر ہر لمحے اللہ کا شکر ادا کرکے اس کی رضا میں راضی رہا جائے۔
اپنی صلاحیتوں کو پہچانیں۔ اپنے آپ کو پہچانیں۔ جو صلاحیت رب نے آپ کو عطا کی اسے مزید تراشا جائے۔ اس صلاحیت کا شکر کیا جائے۔ اسے بہترین سے بہترین طریقے سے استعمال میں لا کر اس صلاحیت میں کمال درجے تک پہنچا جائے۔
آپ منفرد ہے۔ آپ کی صلاحیت سب سے الگ ہے۔ تو دوسروں کی نقل کے بجائے خود کو پہچانیں۔ زندگی میں مقاصد میں مصروف ہو کر ایک بہترین زندگی گزاریں۔
ماضی کو بھول جائیں۔ حال میں جئیں۔ مستقبل کی فکر مت کیجئے وہ عالم الغیب میں ہے۔ “جو انسان بھی ایمان کی حالت میں نیک عمل کرے گا تو اللہ کریم اس کی زندگی کو بہترین بنا دیں گے۔ تو بس آپ اللہ کی طرف آئے۔ اللہ آپ کی زندگی کو بہترین بنا دیں گے۔
غم نہ کریں اللہ آپ کے ساتھ ہے
جب اللہ آپ کے ساتھ ہے تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ وہ آپ کی مدد کرے گا۔ آپ کو اکیلا نہیں چھوڑے گا۔ اس کی طرف دوڑ کر جائے۔۔ وہ آپ کی زندگی کو پرسکون بنا دے گا۔
مریم حسن
مجھے خود کو بدلنا ہے
 FAQs
سوال: کیا ہر راز دوسروں کو بتا دینا چاہیے؟
جواب: ہر بات ہر شخص کو بتانا دانشمندی نہیں۔ معاملے کی نوعیت کے مطابق قابلِ اعتماد اور اہلِ علم شخص سے رہنمائی لی جا سکتی ہے۔
سوال: ماضی کی غلطیوں سے کیسے نکلیں؟
جواب: سچی توبہ، اصلاح کی کوشش، اللہ سے امید اور حال میں مثبت عمل پر توجہ مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
سوال: کیا خود کو معاف کرنا ضروری ہے؟
جواب: اگر انسان اپنی غلطی پر نادم ہو، توبہ کرے اور اصلاح کی کوشش کرے تو ماضی میں مسلسل ڈوبے رہنے کے بجائے بہتر مستقبل کی طرف بڑھنا زیادہ مفید ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

متعلقہ پوسٹس

Advertisment

مشہور پوسٹ