خوش کیسے رہیں؟ یہ سوال آج لاکھوں لوگوں کے ذہن میں موجود ہے۔ اگر آپ بھی ذہنی سکون اور حقیقی خوشی کی تلاش میں ہیں تو یہ مضمون آپ کے لیے ہے۔
خوش کیسے رہیں؟؟
آپ اپنی زندگی میں خوش نہیں ہیں۔ مختلف طرح کی فکریں آپ کو غمزدہ کیے رکھتی ہیں۔ ایک خلا ہے جو پر نہیں ہوتا جس کی کسک دل میں سب نعمتوں کے موجود ہوتے ہوئے باقی ہے۔ جس کی تمنا و خواہش دل میں لیے رکھے ہوئے ہے۔ ایک مسئلہ ختم نہیں ہوتا دوسرا سر پر کھڑا ہوجاتا۔
یا آپ کے والدین میں سے کوئی دنیا میں نہیں رہے۔ آپ نے یتیمی کی زندگی گزاری۔ یا آپ اولاد نہ ہونے کے غم کا شکار ہیں۔ یا آپ کی شادی کی ایج ہوگئی اور عمر بڑھتی جارہی ہے۔ آپ بیوگی کے سفر میں تنہا کھڑے ہیں۔ یا آپ کا روزگار نہ ہونے کے برابر۔۔۔ یا آپ کے ہزبینڈ آپ سے محبت نہیں کرتے۔
آپ کسی بھی مسئلہ کے حل کی تلاش میں ہیں یا پھر کسی بھی قسم کی خواہش و خواب آپ دیکھتے ہیں۔ کوشش کرتے ہیں۔ اور یہ سوچتے ہیں کہ
“اگر یہ مل جائے تب میں خوش رہوں گی/گا۔ جب مجھے یہ سب ملے گا تب ہی میری زندگی خوشیوں سے بھرے گی۔”

لیکن کیا آپ کو یہ معلوم ہے آ
کہ آپ خوش کیوں نہیں رہتے؟؟
جبکہ آپ خوش رہنا چاہتے بھی ہیں۔
اس کا آسان سادہ سا جواب یہی ہے کہ
آپ اس لیےخوش نہیں رہتے کیونکہ جس چیز کو آپ شدت سے چاہتے ہیں یا مسائل کے حل کی تلاش میں ہیں وہ پوری نہیں ہورہی۔
آپ چاہتے ہیں کہ اگر وہ خواب و خواہشات پوری ہو جائیں گی تب ہی آپ خوش رہیں گے۔ تب زندگی سنور جائے گی۔ تب کسی مقصد پر کام کریں گے۔ تب ہی زندگی کے میدان میں آگے بڑھیں گے۔ جس طرح باقی سب کے چہروں پر مسکراہٹیں ہیں اسی طرح آپ بھی مسکرائیں گے۔
لیکن ایسا کبھی بھی ممکن نہیں!!!
کیونکہ آپ کو وہ چیز مل جائیں
یا نہ ملے تب بھی آپ خوش نہیں رہ سکیں گے۔
پتہ ہے کیوں!!!؟؟؟
کیونکہ آپ کے پاس ابھی جو نعمتیں ہیں ان کی قدر کرنے کے بجائے آپ لاحاصل کے پیچھے بھاگ رہے تھے۔ جو آپ کو اللہ تعالیٰ نے نعمتیں دی اس پر آپ خوش نہیں رہ سکیں۔۔۔ اس ایک کی آرزو کر رہے تھے جو آپ کے پاس موجود نہیں تھی۔
جب آپ کی بالفرض وہ خواہش ہوری ہوجاتی ہے تب بھی آپ چند لمحے خوش رہ کر دوبارہ کسی اور چیز کی تلاش میں نکلیں گے۔ کسی اور خواہش کی آرزو کریں گے۔

ایسا کیوں ہوتا ہے؟؟؟
اسی لیے ہوتا ہے کیونکہ آپ نے آج کے دن یعنی حال میں جو میسر ہیں موجود ہیں اس پر خوش رہنا نہیں سیکھا!!!
آپ نے خوشی کی تلاش میں سکون کی تلاش میں کہاں کہاں کے سفر نہیں کیے۔ کبھی خوشی و سکون کو آپ نے بلند بالا پہاڑوں کا سفر کیا۔ کبھی ساحل سمندر کے کنارے پیدل چلیں۔
تو کبھی ٹھنڈی ہواؤں سے لطف اندوز ہو کر ٹھنڈک محسوس کرکے سکون حاصل کرنے کی کوشش کی۔ تو کبھی یوٹیوب پر بلا وجہ ویڈیوز دیکھ کر، سوشل میڈیا کا غیر ضروری استعمال کر کے خوش رہنے کی کوشش کی۔۔۔۔ مختلف کوشش کی باوجود آپ کو خوشی و سکون میسر نہیں آیا!!!!؟
آپ نے مرغ بسمل کی مانند یعنی پانی کے بغیر تڑپتی ہوئی مچھلی کی طرح ہر طرح سے ہاتھ پیر ہلائے لیکن آپ کا خوف بڑھتا رہا، دل کی دھڑکن تیز ہوتی رہی۔ موڈ آف سے انگزائٹی اور پھر ڈپریشن کی طرف سفر کیا۔ لیکن آپ نے اس طرف سفر نہیں کیا جہاں فطرت ہمیں اپنی طرف بلاتی ہے۔ اور بتاتی ہے کہ حقیقت کیا ہے!!! سکون کیسے حاصل ہو، خوشی حاصل کرنے کا واحد حل کیا ہے؟؟
میں اپنی زندگی کی کہانی صرف اسی لیے سنانا چاہتی ہوں تاکہ سب کو فایدہ ہو۔ جس چیز نے مجھے اللہ کے فضل و کرم سے فایدہ دیا، اسی طرح باقی سب کو بھی ضرور ملیں۔ میں یہ پیغام کہ
یہ جو اداسی سے خوش رہنا، بچیوں کو نوجوان نسل کو خاص طور پر لڑکیوں کو سکھانا اور بتانا چاہتی ہوں۔ تاکہ وہ ذہنی طور پر پختہ شعور کے مالک بن جائیں۔ زندگی میں خوش رہنے کا فن سیکھ لیں۔ انگزائٹی و ڈپریشن سے خوش رہنے کی طرف سفر جلد اسٹارٹ کر لیں۔ تاکہ ان سب کی زندگیوں میں سکون آ جائیں اور روح کو قرار ملیں۔ خوش رہنا سیکھ لیں۔ تقدیر پر راضی رہیں۔
پہلے سوچ تھی میری کہ
مجھے سکون کے لیے خوشی کے لیے کسی خوبصورت مناظر کو دیکھنے جانا ہے۔ وہاں قدرت کے ان پیارے دلفریب مناظر کو بس دیکھتے رہنا، آنکھوں میں ٹھنڈک کا احساس ہو، دل کو سکون ملے۔۔۔۔ اور اس کے لیے میں آوٹنگ کے لیے ہر ہفتے لازمی بائیک وغیرہ پر جاتی تھی کہ ٹھنڈی ہواؤں کا لطف دوبالا ہو جائے گا۔
اسی لیے اکثر اوقات گھر میں دنیا گھومنے کے شوق کا ذکر کرتی رہتی تھی۔
مگر اب جب سے زندگی بدلی ہے الحمدللہ ثم الحمدللہ
مجھے خوشی ملی ہے سکون ملا ہے تو میں چاہتی ہوں کہ جو چیز مجھے اب معلوم ہوئی وہ اوروں کو بھی بتاؤں تاکہ سب کی زندگیوں میں خوشی آئے۔ خوش کیسے رہیں اور ذہنی سکون کیسے حاصل کریں؟ آخر خوش کیسے رہا جا سکتا ہے؟کیونکہ خوش رہنا ایسے نہیں آتا بلکہ یہ تو ایک فن ہے جسے سیکھنے سے ہی ہمیں خوش رہنا آئے گا۔

خوش آپ جب رہتے ہیں جب آپ تقدیر پر راضی رہنا سیکھ لیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی رضا میں راضی برضا ہوجاتے ہیں۔ آپ دعائیں ضرور مانگتے ہیں لیکن یہ بھی دل میں اطمینان رکھتے ہیں کہ میں نے اللہ تعالیٰ کی عدالت میں دعاؤں کی فائل جمع کروادی ہے۔
اللہ تعالیٰ آپ سے بہت محبت کرتے ہیں۔ ماں سے بھی زیادہ ستر گناہ محبت کرنے والی ذات اللہ تعالیٰ کی ہے تو جو آپ کے لیے خیر ہوگی۔ جو بہتر سے بہترین ہوگا وہی آپ کا رب آپ کو عطا فرمائے گا۔ یوں آپ کا دل مطمئن ہوجاتا ہے اور آپ صرف آج کے دن کو انجوائے کرتے ہیں۔ خوش رہتے ہیں۔ یہی خوش رہنے کا سب سے بڑا راز ہیں۔ جو مجھے ملا اور میں اپنی زندگی سے اب مطمئن ہوں۔
اور کچھ کام ایسے بھی ہیں جنہیں اگر انھیں اپنی زندگی بے شامل کیا جائے تو سونے پر سہاگا والی مثال قائم ہوجاتی ہے۔
او آپ کو مشکلات و مصائب کے ہوتے ہوئے بھی پھر دلی طور پر مطمئن اور خوش رہتے ہیں۔
جیسے
1: “خود سے محبت و قدر اور کئیر کرنا، روزانہ اپنے لیے تیار ہونا۔۔۔”
آج سے چھ یا سات سال پہلے کی بات ہے میں اپنی فیملی ڈاکٹر کے پاس پیپرز کے حوالے سے ٹینشن ہورہی تھی تو دوائی لینے گئی۔۔۔
تب ڈاکٹر نے مجھے ایک نصیحت کی جسے آج تک میں عمل کرتی آرہی ہوں کہ
” لڑکیوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ میک اپ وغیرہ نہیں کرتی مگر وہ روزانہ ہلکا پھلکا میک اپ کرکے رہیے اس سے بھی ہم خوش رہتے ہیں۔ اور جب ہم خوش رہیں گے تو ہمارا موڈ بہترین رہے گا اور ہم دوسروں کو بھی خوش رکھ سکیں گے۔ اور جب ٹینشن ہو تو شاور کے نیچے سر دئیے دس سے پندرہ منٹ رہنا آپ کو پر سکون کردیا ہے”
خوش رہنے کے لیے خود سے محبت بہت ضروری ہے۔ آپ اپنا خیال رکھنا شروع کردیجیۓ۔ واک کیجئے۔ تیار رہنا، مطالعہ کرنا۔ اپنے شوقیہ کام کو انجام دینا جیسے کسی کو کتاب پڑھنے کا شوق ہوتا ہے۔ کسی کو ٹیچنگ یا باغبانی کا۔۔ جو کام آپ کو پسند ہے وہ کیجئے۔ تاکہ آپ ذہنی طور پر پرسکون رہ سکیں۔
2: کسی مقصد میں لگ جانا یا کام کرنا:
ڈاکٹر رچرڈ کابوٹ جو ہارورڈ یونیورسٹی میں طب کے استاد ہیں وہ اپنی کتاب ” انسان کس چیز سے زندہ رہتا ہے” لکھتے ہیں کہ
” ڈاکٹر ہونے کی حیثیت سے میں ان مریضوں کو جو شکوک وشبہات، خوف و اضطراب کا شکار ہو جائیں تو یہ علاج تجویز کرتا ہوں کہ وہ کام کریں۔ کام کرنے سے شجاعت پیدا ہوتی ہیں وہ خود پر اعتماد سکھاتی ہے”
یونانی حکماء رنج و فکر اور اداسی و خوش رہنے کے لئے کام کاج علاج تجویز کرتے ہیں۔
” ایسے لوگوں کو وہ کام، کھیتی و باغبانی میں لگالیتے کہ وہ تھوڑے عرصے میں ٹھیک ہوجاتے تھے”
قرآن میں بھی ہے کہ
“جب نماز کا وقت ختم ہو جائیں تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو”(١٠:٦٢)
“کہ دو کہ کام کرو”
کام یا کسی بھی مقصد میں لگے رہنے کا یہ فایدہ ہوتا ہے کہ آپ کا خون گردش کرنے لگتا ہے۔ ذہن کے دریچے وا ہوتے ہیں اور نئی زندگی قلق و اضطراب وغیرہ کو دور کر دیتی ہے۔
ایسے لوگ چست و چاق وچوبند اور خوش رہتے ہیں اور اگر آپ ایسے لوگوں کو دیکھیں تو ان سے زیادہ خوش کسی کو نہیں دیکھا۔ مقاصد میں لگنا یا کام کاج کرنا آپ کو خوشی کا احساس دلاتا ہے۔ کہ آپ کو رنج و غم اور فکریں اپنی طرف متوجہ نہیں کرتی بلکہ آپ کے ذہن سے منفی سوچیں ہی غائب ہو جاتی ہے۔ آپ کو لوگوں کی پرواہ نہیں ہوتی کہ وہ کیا کہیں گے بلکہ آپ اپنے مقاصد میں لگ کر پرسکون اور خوش رہتے ہیں۔

3: “نماز و قرآن اور ذکر و دعا”
کہ نماز و قرآن ذکر آپ کے دل کو سکون اور روح کو قرار دیتی ہے۔ انتشار ختم ہوجاتا ہے۔ کیونکہ جیسے جسمانی غذا سے آپ ٹھیک رہتے ہیں ایسے ہی روحانی غذا سے آپ کی بے قرار روح کو قرار ملتا ہے۔
قرآن میں بھی ہے کہ
” اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو سکون ملتا ہے”
مضطرب دل جب اللہ تعالٰی سے رو کر دعا کرتے ہیں تو دل میں ٹھنڈک پیدا ہوتی ہیں۔ یہ زندگی کا حصہ بنا لیجئے۔ کیونکہ جو اللہ تعالیٰ کی طرف پہل کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے کاموں کو آسان کردیتے ہیں اور اپنے زمہ لے لیتے ہیں۔ کہ تمام کام بآسانی حل ہوجاتے ہیں۔
یہ چند کام کرکے آپ زندگی میں خوش رہنا ضرور سیکھ جائیں گے۔ مصائب ضرور ہوتے ہیں سب پر آتے ہیں مگر ان میں صبر و شکر اور حوصلہ کی بدولت اللہ تعالیٰ دل کو مطمئن کر دیتے ہیں۔ خوشی آپ کے چہرے کا حصہ بن جاتی ہے۔ مومن کے لیے ویسے بھی زندگی قید خانے کی مانند ہے۔ کیونکہ مومن بہادر ہوتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا میں راضی ہو کر خوش رہتا ہے۔ وہ زندگی ایک اچھے مقصد کے تحت گزارتا ہے۔ ایک اعتماد سے جیتا ہے۔
آپ قیمتی ہیں۔ اپنی قدر کیجئے۔ خود سے محبت کیجئے۔ اللہ کی رضا میں راضی رہیے۔ جو ملا اس پر خوش رہنا سیکھ لیجئے۔ یقین کیجیے کہ آپ کی زندگی میں سکون پیدا ہو جائے گا۔ آپ کی روح کو قرار مل جائے گا۔ آپ کی زندگی میں نئی امید سے جینے کا مقصد مل جائے گا۔ آپ کا ہر دن بہترین طریقے سے گزرے گا۔
جب آپ خود سے محبت کریں گے تو آپ کی قدر و محبت لوگوں کے دلوں میں پیدا ہو جائے گی۔ وہ خود آپ کی طرف بڑھیں گے۔
کیا ہوا اگر آپ کے پاس اولاد نہیں لیکن زندگی کی نعمت تو ہے، بڑا مقصد ہیں آپ کے پاس۔ آپ کا مقصد آپ کو بہت ساری روحانی اولاد دے گا۔ حضرت امی عائشہ کی اولاد نہیں تھی مگر انھوں نے علمی کام اتناکیا جتنا کسی اور صحابیہ نے نہیں کیا۔
آپ کے پاس اتنی ساری نعمتیں ہیں جن کی جتنی قدر کی جائے کم ہے۔ جو موجود ہیں اس کا شمار کیجئے تو آپ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے نہیں تھکیں گے۔ اور شکر کرنے پر اللہ تعالیٰ آپ کو پہلے سے بڑھ کر مزید نوازیں گے۔ مسائل حل ہو جائیں گے۔ یہ وقت بھی جلد گزر جائے گا۔ یہ پریشانیاں دور ہو جائیں گی۔
آپ نے آج کے دن جینا ہے۔ کیونکہ آپ کے پاس صرف آج کا دن ہے۔ آج کے دن صرف خوش رہنا ہے۔ آپ کے اوپر ہے خوشی کے ساتھ جئیں یا غمزدہ ہو کر۔ بہتر یہی ہے کہ اللہ کی رضا میں راضی ہو کر آج کے دن خوش رہنا ہے۔ آپ ہمت کیجئے۔ ارادہ کر لیجئے۔ اللہ تعالیٰ سب آسان کردیں گے۔ خیر ہوگی ان شاءاللہ۔
مریم حسن
FAQs
سوال: کیا خوش رہنا ایک ہنر ہے؟
جواب: جی ہاں، خوش رہنے کی بہت سی عادات سیکھی جا سکتی ہیں، جیسے شکر گزاری، مثبت سوچ، مقصد کے ساتھ زندگی گزارنا اور صحت مند معمولات۔
سوال: کیا صرف خواہشات پوری ہونے سے خوشی مل جاتی ہے؟
جواب: اکثر خوشی وقتی ہوتی ہے، جبکہ دیرپا اطمینان شکر، مقصد اور مضبوط اقدار سے پیدا ہوتا ہے۔
سوال: ذہنی سکون کے لیے کون سی عادتیں مفید ہیں؟
جواب: نماز، دعا، قرآن کی تلاوت، باقاعدہ ورزش، اچھا معمول، مثبت مصروفیات اور اپنے مقاصد پر کام کرنا بہت مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔


