اللہ تعالیٰ مومن کے گمان کے مطابق معاملہ فرماتے ہیں | منفی خیالات سے نجات کا قرآنی راستہ
آپ پریشان ہورہے ہیں، منفی خیالات شدت کے ساتھ آپ کے ذہن میں اثر انداز ہورہے ہیں۔ شیطانی وساوس آپ کا پیچھا نہیں چھوڑ رہے، مسلسل ان کیفیات سے دوچار ہو کر آپ اپنے آپ سے تنگ آ چکے ہیں۔ آپ یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ یہ حالات سدا ایک جیسے ہی رہیں گے۔۔۔
لیکن، رکیے؛ ایسا بالکل نہیں ہے۔
میرے پاس ایک جاننے والی خاتون کی کچھ دیر پہلے کال آئی، وہ پریشان سی کہنے لگی کہ “میں نے اپنی سسٹر سے کہا ہے کہ جو میکے میں جو اضافی مکان بن رہا ہے اسے مدرسے کے طور پر بنالیجیے تاکہ کبھی کسی بہن کے کام آ سکے”
ایک منٹ، آپ یہ بتائیے کہ وہ مدرسہ کبھی کیوں کام آ سکے، کس لیے بنوانا چاہ رہی ہیں”
میں نے ان کی گفتگو وہی روکی اور ان سے پوچھا۔
تب وہ کہنے لگی کہ “میرے ہسبینڈ ہر وقت لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں اور کبھی کبھی تو لگتا ہے کہ معاملہ آخر تک نہ آجائیں اور مجھے والدہ کے گھر آنا پڑے جبکہ چار بچے بھی ہے”
تب میں نے انھیں کہا کہ آپ اتنا زیادہ مت سوچا کرے، اللہ تعالیٰ خیر کریں گے۔

اللہ تعالیٰ مومن کے گمان کے مطابق معاملہ فرماتے ہیں. حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے، ہر مشکل کے بعد آسانی ہے۔ آپ سب کے ساتھ بھلائی کیجئے، اللہ تعالیٰ ہیں ناں! وہ آپ کے ساتھ ہیں۔ جب جب منفی سوچیں شدت کے ساتھ ذہن میں اثر انداز ہو، اور ایسے ویسے خیالات ذہن میں آرہے ہو تو بجائے میکے آنے کا سوچنے کے بجائے بار بار یہ جملے دہرائیے کہ۔۔۔
“میرے ہسبینڈ بہت اچھے ہیں”
“وہ مجھ سے راضی رہیں گے”
“میں ایسے کام کروں گی جس سے وہ مجھ سے راضی ہوں گے”
“میرے سب معاملات ٹھیک ہو جائیں گے، ان شاءاللہ”
“میرے سب حالات آسانی کے ساتھ حل ہوتے جائیں گے، ان شاءاللہ”
یہ جملے جادوئی اثر رکھتے ہیں۔
یہ جملے اللہ تعالیٰ پر حسنِ ظن، امید اور دعا کے جذبے کو مضبوط کرتے ہیں، جس سے دل کو حوصلہ اور سکون ملتا ہے۔
یہ سمجھ لیجئے اللہ سے دعا مانگنا اور اپنے امید و حوصلے یقین کی طاقت کو بڑھانا ہے۔ منفی کیفیات میں اللہ تعالیٰ سے چلتے پھرتے دعا مانگنے کا نام ہے۔ ایک طریقے سے اللہ کی طرف سے ان جملوں سے ایسے معجزات رونما ہوتے ہیں کہ عقل حیران رہ جاتی ہیں۔
جب جب ایسی کیفیت ہو تب آپ ان جملوں کو دہرائیے، یقین کیجئے کہ منفی کیفیات کی شدت کا زور ٹوٹنے لگے گا اور آپ پرسکون ہو جائیں گی، اور جب آپ کے اندر سکون ہوگا تو آپ باقی معاملات بھی آسانی سے نبھا سکیں گی۔

“تھامس ہڈسن کا کہنا ہے کہ کوئی ذریعہ نہیں پایا جاتا جس سے انسان تفکرات سے چھٹکارا پالے۔”
تجربات سے یہ بات درست معلوم ہوتی ہے، حتی کہ پڑھتے لکھتے وقت بھی انسان سوچ میں پڑا رہتا ہے۔
فارغ رہنے والے ہی خیالات و اوہام کا شکار رہتے ہیں۔ ہم اگر کسی حوالے سے جتنا زیادہ سوچیں گے اتنا ہی ٹینشن میں رہتے ہیں۔ بالفرض اگر آپ خیالات کو روکنے کی فکر کرتے ہیں اور سوچتے رہتے ہیں کہ “بس مجھے خیالات نہ آئے میں ٹھیک رہوں گا” تو ایسا ممکن نہیں ہے۔
کیونکہ جب انسان پڑھتے لکھتے وقت بھی سوچ میں پڑا رہتا ہے تو وہ کیسے ان خیالات پر قابو پا سکتا ہے۔
سب سے بہترین اور مفید حل یہی ہے کہ
فکر کو روکنے اور منضبط بنانے کے لیے آپ اپنے آپ کو بہترین، نفع بخش اور مفید عمل میں مصروف کرلیجیۓ۔ اس طرح آپ اپنے مقاصد کی تکمیل کی طرف لگے رہیں گے۔
ایک تیر سے دو شکار۔۔۔
نہ آپ فری رہیں گے کہ خیالات پریشان کریں۔ اور دوسرا مقصد کے حصول کی تکمیل میں مصروف بھی جو آپ کے دوسروں کے لیے خیر کا باعث بنے گا ان شاءاللہ۔

عربی شاعر ایلیا ابو ماضی کے ایک خوبصورت شعر کا حصہ ہے۔
المُتَفَائِلُ يَرَى فِي كُلِّ نِهَايَةٍ بِدَايَةً جَدِيدَةً، وَفِي كُلِّ خَسَارَةٍ دَرْسًا، وَفِي كُلِّ تَأْخِيرٍ حِكْمَةً، فَازْرَعِ الْأَمَلَ فِي قَلْبِكَ كُلَّ صَبَاحٍ، ‘وَكُنْ جَمِيلًا تَرَى الْوُجُودَ جَمِيلًا
“امید پسند (مثبت سوچ رکھنے والا) انسان ہر اختتام میں ایک نیا آغاز دیکھتا ہے،
اور ہر نقصان میں ایک سبق پاتا ہے،
اور ہر تاخیر میں کوئی حکمت دیکھتا ہے،
چنانچہ ہر صبح اپنے دل میں امید کا پودا لگاؤ،
‘اور خود خوبصورت بن جاؤ، تمہیں پوری کائنات خوبصورت نظر آئے گی۔’
اور حدیث میں بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ مومن کے گمان کے مطابق معاملہ فرماتے ہیں۔ جب ہم اچھے گمان رکھیں گے تو ان شاءاللہ آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ بہتر معاملہ فرمائیں گے۔
“اللہ تعالیٰ کے بارے میں اچھا گمان رکھنا، اس سے خیر کی امید وابستہ کرنا اور اس پر بھروسہ کرنا ایمان کی خوبصورت صفات میں سے ہے، البتہ اس کے ساتھ نیک عمل، دعا اور جائز اسباب اختیار کرنا بھی ضروری ہے۔”
کیوں کہ سوچ کا گمان کا ہماری زندگی میں بڑا عمل دخل ہے۔ میں نے انھیں کہا کہ مدرسہ کھولنا بہت اچھا عمل ہے مگر آپ ان جملوں کو دہرائیے اور یہ سوچیے کہ جب اللہ نے موقع دیا تو اپنے ہی گھر میں اس نیک کا آغاز کریں گی، ان شاءاللہ۔
میں نے انھیں ذہن کو پرسکون رکھنے والی ایک دو ورزش بتائی، جس سے ذہن پرسکون ہو جائیں۔ وہ میری باتیں بہت توجہ سے سن رہی تھی اور بہت خوش ہو کر دعائیں دیکر انھوں نے فون بند کیا، میرے دل میں ٹھنڈک سی اتر گئی، الحمدللہ۔ سوچا کہ وال کی زینت بنالوں کسی کے کام آجائیں اور میں کسی
کی خیر کی دعاؤں میں شامل ہوجاؤں۔
مریم حسن

