کامیابی کا اصل راز: مستقل مزاجی، خود کو بدلنے اور خوابوں کی تعبیر کا سفر | Motivation in Urdu
زندگی چلتے رہنے کا نام ہے۔ رک جانا تو موت ہے۔ اگر آپ منزل کی جانب آہستہ آہستہ چلتے رہتے ہیں تو یقیناً ایک نا ایک دن آپ منزل پر پہنچ ہی جاتے ہیں۔ کامیابی آسان نہیں ہوتی، لیکن ناممکن بھی نہیں ہوتی۔ اصل فرق مستقل مزاجی، سوچ اور خود کو بدلنے کی ہمت میں ہوتا ہے۔
کامیابی آسان کیوں نہیں ہوتی؟
اگر آپ اپنی منزل کو حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن آپ یہ سمجھتے ہیں کہ حاصل کرنا بہت آسان ہوگا!!؟؟
تو ایسا ہر گز نہیں ہے؛ جیسا آپ سوچ رہے ہیں۔ مشکلات تو آئیں گی۔ چیلنجرز تو آتے رہیں گے لیکن ان کا مقابلہ کرنا آپ کی سب سے بڑی جیت ہوگی۔ کامیابی ہر کسی کے لیے ایک جیسی نہیں ہوتی۔ اس راستے میں مشکلات، چیلنجز اور ذہنی دباؤ لازمی حصہ ہیں۔

انسان کے سامنے ہمیشہ دو راستے ہوتے ہیں:
دوسروں کو خوش کرنا اور خود کو کھو دینا
یا اپنے مقصد کے لیے خود کو بدلنا
یا تو آپ وہ بن جائیں جو لوگ آپ کو بنانا چاہتے ہیں۔ جو دنیا آپ کو بنانا چاہتی ہیں۔ یہ بہت آسان ہوگا کیونکہ اس میں لوگ آپ خوش ہوں گے۔ آپ کا اپنا آپ کہیں گم ہو جائے گا۔ آپ کی شخصیت مسخ ہو جائے گی۔ آپ کا کوئی نام نہیں رہے گا۔ آپ کی زندگی مقصد سے خالی ہو جائے گی۔ بس آپ لوگوں کو خوش کرتے کرتے دنیا سے چلے جائیں گے۔

لیکن اگر آپ وہ بننا چاہتے ہیں جس کے لیے آپ بنے ہیں۔ جو آپ کی زندگی کا مقصد ہے۔ جسے حاصل کرنا آپ کا سب سے بڑا خواب ہیں۔ جو آپ کا جنون ہے تو اس کے لیے پھر آپ کو حالات کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ مشکلات کو فیس کرنا ہوگا۔ اپنے مقصد سے ایسے عشق کرنا ہوگا کہ جیسے کوئی پاگل ہوتا ہے اپنے مقصد کو لیکر؛ پھر ہی آپ اپنی منزل کو حاصل کر سکیں گے۔ یہ سب آسان نہیں ہے اتنا؛
مستقل مزاجی کی طاقت
لیکن اگر آپ ہمت نہیں ہارتے، تھوڑا مگر روزانہ — یہی کامیابی کا اصل فارمولا ہے۔ اپنے مقصد کے حصول کے لیے ڈٹ جاتے ہیں۔ بہترین حکمت عملی اختیار کرتے ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر مستقل مزاجی کو اپنا لیتے ہیں تو یقین کیجئے کہ ایک دن ایسا آتا ہے کہ سب آسان ہو جاتا ہے اور پھر آپ کامیابی کے منازل درجہ بہ درجہ طے کرتے چلے جاتے ہیں۔
لیکن ایک بات یاد رکھیے گا؛
کہ اس راستے میں چلنے کے لیے آپ کو روکا جائے گا۔ طنز کے تیر چلائے جائیں گے۔ ہر ممکن طریقہ اختیار کرکے آپ کو روکا جائے گا۔ آپ ذہنی دباؤ کا شکار ہوں گے۔ چڑچڑا پن، غصہ اور سٹریس آپ کی زندگی کا حصہ بنتا چلا جائے گا۔ ان سب کی وجہ یہی ہوگی کہ آپ یہ سب سوچ کر ڈپریس رہیں گے کہ “میں کیوں وہ سب نہیں کر پا رہا جو میں کرنا چاہتا ہوں!!!”
ذہنی دباؤ اور حقیقت:
“ایسی کیا وجہ ہیں کہ اپنی زمہ داریاں ادا کرنے کے باوجود مجھے، میرے شوق کو، مقصد کو پورا کرنے سے روکا جا رہا ہے!!!؟”
یہ سب سوچ کر آپ ٹینشن کا شکار ہوں گے اور دن بھر کے ورک کو صحیح سے ادا بھی نہیں کر سکیں گے کہ میں کیوں نہیں کر پارہا، مجھے کیوں روکا جا رہا ہے۔
ذہنی دباؤ اور حقیقت: جب انسان اپنے خوابوں کے قریب ہوتا ہے تو اس پر ذہنی دباؤ بڑھ جاتا ہے، لیکن یہی دباؤ ترقی کی نشانی بھی ہوتا ہے۔

لیکن ایک بات یاد رکھیے گا؛ کہ لوگ کبھی بھی نہیں بدلیں گے۔ آپ کسی کو نہیں بدل سکتے۔ اور کوئی آپ کی وجہ سے کیوں خود کو چینج کرے گا!!؟
ضرورت آپ کو ہے اپنے مقصد کو حاصل کرنے کی!
تو جب ضرورت آپ کی ہیں۔ مشن آپ کا ہیں۔ خواب آپ کے ہیں۔ تو پھر بدلنا بھی اپنے آپ کو، خود آپ کو ہوگا۔
خود کو بدلنا کیوں ضروری ہے؟
دوسروں کو بدلنا ممکن نہیں، لیکن خود کو بدل کر آپ پوری زندگی بدل سکتے ہیں۔
خود کو بدلیں بجائے دوسروں کو بدلنے کے، کیوں کہ ہم جب خود کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں تو دوسرے بھی بآسانی ہمارے لیے بہترین ثابت ہو سکتے ہیں۔ لیکن اگر ہم دوسروں کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ ممکن نہیں ہوتا کیونکہ جو جیسا ہے وہ ویسا ہی رہتا ہے۔ لیکن اگر کامیابی چاہتے ہیں تو خود کو تبدیل کرنے کی کوشش کریں کیونکہ کامیابی بھی خود کو ہی بدلنے سے ملتی ہیں۔

کامیابی کا اصل فارمولا:
مستقل مزاجی
محنت
خود احتسابی
کمفرٹ زون سے نکلنا
واضح مقصد
کامیابی ہمیشہ خود کو تبدیل کرنے، محنت اور مستقل مزاجی سے ہی ملا کرتی ہیں۔ اپنے کمفرٹ زون سے جب تک نہیں نکلیں گے آپ کچھ بھی نہیں حاصل کر سکیں گے۔ کمفرٹ زون انسان کو وقتی سکون دیتا ہے مگر لمبے عرصے میں یہ ترقی کو روک دیتا ہے۔ آپ اپنے حالات کا زمہ دار اوروں کو ٹہراتے رہیں گے۔ انگلی جو آپ دوسروں کی طرف کیے ہوئے ہیں اسے اگر اپنی طرف کر لیں، تو یقین کیجئے کہ آپ پھر اپنے بل بوتے پر آگے بڑھنے کی کوشش کریں گے۔
حالات جیسے بھی ہو، حالات کے تابع نہیں بنا جاتا، بلکہ حالات کو اپنے تابع بنایا جاتا ہے۔ اور پھر جب آپ حکمت عملی اختیار کرکے محنت کرتے ہیں تو یقین جانیے؛ ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ آپ جو کرنا چاہتے ہیں وہ کر سکتے ہیں۔ حالانکہ پہلے ناممکن تھا۔ تو ممکن اسی لیے ہوا جب آپ نے لوگوں کو زمہ دار ٹہرانے کے بجائے، دوسروں کی سننے کے بجائے اپنے دل کی سنی، وہ بننے کی کوشش کی جو آپ بننا چاہتے تھے۔ جب آپ نے اپنے کمفرٹ زون سے نکلنے کی کوشش کی، تو اللہ کریم بھی پھر انسانوں کی محنتوں کو ضائع نہیں کرتے، جس کی کوشش کی اس کے لیے سب راستے آگے بڑھنے کے آسان کر دیتے ہیں۔

پیارے لوگو؛
پہلا قدم ہمیشہ سب سے مشکل ہوتا ہے، لیکن جب آپ چل پڑتے ہیں تو راستے خود آسان ہوتے جاتے ہیں۔ اگر آپ مستقل مزاجی اختیار کر لیں تو کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔
پہلا قدم آپ کو ہی اٹھانا ہوگا، جب آپ پہلا قدم اٹھا لیں گے تو وہ سب آپ کے لیے آسان ہوتا جائے گا، جو آپ حاصل کرنا چاہتے تھے۔ اٹھیں؛ ہمت کریں، جس مقصد کے لیے پیدا ہوئے ہیں اس مقصد سے عشق کر لیں۔ کسی کو بتائے بغیر بس جب وقت ملے اپنے مقصد کے لیے وقت کو وقف کر دیں، حکمت عملی کو اختیار کریں۔ مستقل مزاجی کو زندگی کا حصہ بنا لیں، کہ تھوڑا کروں گا مگر روزانہ کروں گا۔ جو کر سکتے ہیں فی الحال وہ تو کیجئے۔ پھر آپ دیکھیے گا کہ کامیابی آپ کا مقدر ہوگی۔ آپ کے مقاصد پورے ہوتے نظر آئیں گے۔ ایک دن وہ بھی آئے گا کہ جو لوگ آپ کو روکنے کی کوشش میں لگے ہوئے تھے وہ بھی آپ کے گن گاتے رہیں گے، ان شاءاللہ تعالیٰ۔
مریم حسن


