خود اعتمادی کیسے پیدا کریں؟ | احساسِ کمتری، شرم اور جھجک سے نکلنے کا آسان حل
یہ نیچرل بات ہے کہ
اگر آپ جس چیز پر زیادہ توجہ دیتے ہیں وہی چیز آپ کی زندگی کا حصہ بنتی چلی جاتی ہے۔
اگر آپ اپنے اندر کسی خامی یا برائی پر غور کرتے رہیں گے تو وہ مزید بڑھتی چلی جائے گی لیکن کم نہیں ہوگی۔
جیسے ایک شخص چاہتا ہے کہ
احساسِ کمتری، شرم اور جھجک سے نکلنے کا آسان حل یا خود اعتمادی کیسے پیدا کریں؟ یا ٹینشن میری زندگی سے ختمِ ہو جائیں اور پھر وہ اس حوالے سے سرچنگ کرتا اور طریقے ڈھونڈتا رہے۔۔۔ غور کرتا رہے۔۔۔ بس یہی سوچیں کہ
“میں نے ٹینشن دور کرنی ہے!!!”
یا “میری زندگی سے ٹینشن ختم ہو تب ہی میں پرسکون ہوں گا”
“یہ کس طرح ختم ہوں گی تب ہی میں کامیابی حاصل کر سکوں گا”
تو یقین کیجئے؛
پھر ٹینشن ختم ہونے کے بجائے بڑھتی چلی جاتی ہے۔ کیونکہ آپ چیز کے حوالے سے جتنا سوچیں گے اتنا ہی سوچتے جائیں گے اور وہ ختم ہونے کے بجائے بڑھتی چلی جاتی ہے۔
لیکن
اگر آپ جو مسئلہ ہے اس پر ایک مرتبہ غور کر لیں کہ کیسے حل کرنا ہے یا مخلص سے مشورہ کر لیا تو بس پھر اب اس کے بعد سوچنا نہیں ہے۔ بلکہ اب اپنا دھیان اس طرف کرلینا ہے جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔ مطلب خود اعتمادی کیسے پیدا کریں یا اگر آپ پرسکون رہنا چاہتے ہیں تو خود کو کسی ایکٹیویٹیز میں مصروف کر لیجئے۔ اپنے اندر کوئی خوبی پیدا کرنا چاہتے ہیں تو آپ اس عادت کو اپنانا شروع کر دیجئے۔

اگر اپنا وزن کم کرنا چاہتے ہیں تو واک کرنا اور کھانا بھوک رکھ کر کھانا اسٹارٹ کر دیجیے۔
یا اگر زندگی بامقصد گزارنا چاہتے ہیں تو کسی مقصد میں لگ جائیں۔ اور پھر روزانہ کی بنیادوں پر چھوٹے چھوٹے قدم اٹھا کر ورک کیجئے۔ آپ کی شخصیت میں تبدیلی آنا شروع ہو جائے گی آپ کا دھیان اس ٹینشن کی طرف سے ہٹ جائے گا جس نے آپ کی زندگی بے چین کی ہوئی تھی۔ اور آپ کو اپنا گول بھی پورا ہوتا نظر آئے گا۔
آپ بس اپنے مقصد کی طرف لگے رہیں گے۔ آپ یہی سوچیں گے کہ کیسے میں نے اپنے مقصد میں کامیاب ہونا ہے۔ کس طرح قدم اٹھانا۔۔۔ غرض آپ مصروف ہو کر اس چیز کو بھول جائیں گے۔
یا پھر آپ احساس کمتری سے نکلنا چاہتے ہیں۔ یا آپ کمیونیکیشن اسکلز سے ٹھیک سے نہیں آتی۔ لوگوں سے بات نہیں کر سکتے۔ کسی مجلس میں بیٹھ نہیں سکتے کیونکہ سب کے سامنے بیٹھتے ہوئے شرم آتی ہے۔ یا پھر آپ بول نہیں سکتے جھجھک یا شرم یا احساس کمتری کا شکار ہے کہ آپ سمجھتے ہیں کہ آپ بول نہیں پائیں گے۔ یا آپ کے ذہن میں آتا ہے کہ لوگ مذاق اڑائیں گے۔ غرض کسی بھی حوالے سے آپ احساس کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اپنا آپ اچھا نہیں لگتا۔

آپ اگر ان سب سے واقعتاً نکلنا چاہتے ہیں تو پھر آپ نے اس پر کام کرنا ہے۔ جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔ جو آپ بننا چاہتے ہیں۔ آپ نے وہ کرنا اسٹارٹ کرنا یے۔ بالفرض آپ نجی زندگی ہو یا سوشل لائف میں بولنا اسٹارٹ کرنا چاہتے ہے۔ تو آپ اس پر ورک شروع کر دیجیے۔
اس کی آپ پریکٹس اپنے روم میں شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر بھی کر سکتے ہیں۔ کہ
“میں بہت اعتماد سے بات کر سکتا ہوں۔ میں قابل ہوں۔ میرے اندر بات کرنے کی صلاحیت ہے۔ میں کر سکتا ہوں۔ میں کمیونیکشن اسکلز جلد سیکھ جاؤں گا۔”
صبح اٹھتے ہی اپنے آپ سے بات کرنی ہے خود کو بتانا ہے۔ زہن نشین کروانا ہے کہ
“آپ کر سکتے ہیں۔”
کیونکہ
اگر کوئی آپ کو آگے بڑھنے میں مدد دے سکتا ہے تو یقین کیجئے کہ آپ شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر دیکھیے؛
تو وہ آپ خود ہیں۔ جو آگے بڑھنے میں مدد کر سکتا ہے وہ آپ ہی ہیں۔ آپ قابل ہیں۔ اپنی قدر کیجئے۔ جب آپ خود سے محبت نہیں کریں گے تو دنیا بھی آپ سے محبت نہیں کرے گی۔

دوسرا کام آپ نے مجلس میں اور گھر میں، سب کے درمیان بولنا اسٹارٹ کرنا ہے کیونکہ کام کرنے سے آتا ہے۔ پریکٹس سے آتا ہے۔ بالفرض کھانا بنانا سیکھتے ہے تو پہلے انڈہ، پھر چائے بنانا پھر ہی جا کر آپ بریانی بنا سکتے ہیں۔
یا پھر آپ کوئی بھی ورک کرتے ہیں تو پہلے ابتدا سے سیکھتے ہیں ایسے ہی آپ نے اگر بولنا سیکھنا ہے تو آپ کو بولنا پڑے گا۔ لکھنا سیکھنے کے لئے لکھنا پڑے گا۔ پڑھنے کے لئے پہلے آپ کو پڑھنا پڑے گا۔
ایسے ہی اگر بولنا سیکھنا چاہتے ہیں تو آپ کو بولنا پڑے گا۔
پہلا قدم مشکل ہوتا ہے لیکن اگر آپ اٹھا لیتے ہیں تو سب آسان ہوجاتا ہے۔ ہمت کیجئے۔
بولیے؛ جیسے بھی بولنا آتا ہے۔ آپ بول سکتے ہیں۔
لوگوں کو مت دیکھیے؛
کہ وہ کیا کہیں گے۔ کوئی کچھ بھی نہیں کہے گا۔ کوئی نہیں چاہتا کہ آپ آگے بڑھے۔ اگر بڑھنا چاہتے ہیں تو خود ہی قدم بڑھانا ہوگا۔
تیسری اہم چیز
آپ یہ سمجھیے کہ آپ کو ان سب سے زیادہ اچھا بولنا آتا ہے۔ مطلب اپنے اندر اعتماد پیدا کرنا ہے۔ اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کرنا مراد ہے۔ جب آپ خود پر اعتماد کرکے آگے بڑھتے ہیں تو یقین کیجئے کہ آپ وہ کر سکتے ہیں جو کرنا چاہتے ہے آپ بول سکتے ہیں۔
کچھ بھی مشکل نہیں ہے۔ سب آسان ہے۔ محنت سے ہی سب حاصل ہوتا ہے۔ ہیلن کیلری جو نابینا، کان سے سن نہیں سکتی۔۔۔
بول نہیں سکتی تھی مگر وہ 12 کتابوں کی مصنفہ بن سکتی تو کیا ہم سب کے لیے۔۔۔۔ جو بول سکتے ہیں۔ دیکھ سکتے ہیں۔ سن سکتے ہیں کیا کچھ مشکل ہے۔؟؟؟
کچھ بھی مشکل نہیں ہے۔ آپ کر سکتے ہیں۔ بس ہمت کیجئے۔

آگے بڑھیے؛
کسی سے امید نہیں رکھنی۔ کسی سے حوصلہ افزائی نہیں لینی۔ خود آگے بڑھنا ہے۔ خود کو خود ہی تھپکی دینی ہے۔ جینے کے لیے خود ہی آگے بڑھنا ہوتا ہے۔ قافلہ ہمیشہ پہلے اکیلا چلتا ہے پھر قافلہ بنتا ہے۔ منزل کے لیے اکیلے ہی سفر کرنا ہوتا ہے۔ کوئی ساتھ نہیں دیتا
آپ اللہ سے مدد مانگے۔ دعائیں موسی۔۔۔
رب شرح لئ صدری پڑھتے رہیے تاکہ جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اللہ نے مدد کی ایسے ہی اللہ آپ کی مدد کرے گا۔ آپ کو شرح صدر حاصل ہوگا۔ بولنے میں آسانی ہوگی۔رب زدنی علما بھی پڑھتے رہیے۔ ساتھ الم نشرح لک صدرک بھی۔
اللہ سے مدد مانگی جاتی ہے اللہ مدد کرتے ہیں۔ اس کی مدد آپ کے ساتھ ہوجاتی ہے۔ جب آپ لکھ سکتے ہیں تو بول بھی سکتے ہیں۔ آپ میں بہت ساری صلاحیتیں ہوں گی۔ تعلیمی و علمی۔۔ لکھنے کی، مزاح کی، اخلاق کی۔۔۔اپنی اچھی اچھی عادات پر خوبیوں پر غور کیجئے۔ جب یہ آپ کے اندر آگئی تو یہ سب بھی سیکھ سکتے ہیں۔
آپ کر سکتے ہیں۔ مستقل مزاجی خود آتی جائے گی۔ بس روزانہ ورک کرنا ہے۔ اور آج کے ہی دن پر فوکس کرنا یے۔ جو کر سکتے ہیں اس پر شکر ادا کرکے کرنا ہے۔ شروع میں غلطیاں ہوں گی لیکن پریکٹس کرکے آپ کامیاب ہوتے چلےجائیں گے، ان شاءاللہ۔
مریم حسن
سوال: خود اعتمادی کیسے پیدا کی جا سکتی ہے؟
جواب: پریکٹس، مثبت سوچ، مسلسل سیکھنے اور اللہ پر بھروسہ کرنے سے خود اعتمادی میں اضافہ ہوتا ہے۔
سوال: احساسِ کمتری سے کیسے نکلیں؟
جواب: احساسِ کمتری، شرم اور جھجک سے نکلنے کا آسان حل اپنی صلاحیتوں پر توجہ دیں، دوسروں سے موازنہ کم کریں اور روزانہ چھوٹے چھوٹے عملی اقدامات کریں۔



