اوورتھنکنگ اور غم سے نجات کا بہترین حل | استغفار اور اللہ کی رضا سے سکون

اوورتھنکنگ اور غم سے نجات کیسے حاصل کریں؟
اوورتھنکنگ ماضی کے زخم کیوں تازہ کرتی ہے؟
اوورتھنکنگ اور غم سے  نجات حاصل کرنا ہر اس شخص کی ضرورت ہے جو غم، پریشانی، منفی خیالات اور ذہنی دباؤ کا شکار ہے۔ جب ہم کسی چیز کو جتنا یاد کرتے ہیں وہ ہمارے دل  و دماغ میں وہ چیز اتنی زیادہ نقش/راسخ ہوتی چلی جاتی ہے۔ بہت ہی پختہ ہوجاتی ہے کہ پھر ذہن و دل سے اس کی یادیں مٹانا مشکل ہوجاتا ہے۔
ٹھیک اسی طرح آپ ماضی میں ہونے والے کسی ناخوشگوار واقعات دہراتے رہتے ہیں تو وہ مزید آپ کے ذہن میں اور پختہ ہوجاتے ہیں۔ بھلائے نہیں بھولتے کیونکہ آپ ان کا ذکر بارہا کرتے رہتے ہیں پھر آپ کے ذہن میں یہ بیٹھ جاتا ہے کہ یہ قصہ آپ کے ساتھ ہوا آپ کے ساتھ یہ سب برا ہوا۔
اگر آپ انھیں دل و دماغ سے نکالنا چاہتے ہیں تو آپ ماضی میں ہونے والے اس ناخوشگوار واقعے کو بھول جائیے اور کسی کے سامنے ذکر تک مت کیجئے۔ آہستہ آہستہ آپ یہ سب بھول جائیں گے اور آپ کو ایسا محسوس ہوگا کہ آپ کے ساتھ کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔
ساتھ ہی آپ اپنی زندگی کا کوئی مقصد متعین کر لیجئے۔ اپنے کو کسی اچھے مقاصد میں لگا لیجئے۔
خالی ذہن پریشانیوں کا شکار کیوں ہوتا ہے؟
کیونکہ خالی ذہن تو شیطان کا گھر ہوتا ہے۔ جب آپ فارغ رہیں گے تو آپ پریشان و غمگین اور ناخوش رہیں گے۔ اوور تھنکنگ کا شکار ہو کر اداسی کی تصویر بنے ہوئے دکھائی دیں گے۔ پھر آپ ماضی کے اوراق کو یاد کرکے بھی روئیں گے جب زیادہ یاد کریں گے تو زخم تازہ ہو مزید خراب ہو جائیں گے۔ اپنے آپ کو ہر معاملے میں قصور وار ٹھہرائیں گے۔
ان سب سے کیا ہوگا!!!؟؟
کسی کو کچھ نہیں ہوگا بلکہ
نقصان سراسر آپ کی ذات کا ہی ہوگا!!!!
ذہنی طور پر بھی اور جسمانی طور پر۔۔۔ زہن منتشر اور آپ گھبراہٹ کا شکار ہو جائیں گے۔ جسمانی طور پر آپ بلڈ پریشر کی مریض بن کر ادویات کا پلندا تھامے گھومیں پھریں گے۔ سب یہی سمجھیں گے کہ آپ بلڈ پریشر کے مریض بن گئے ہیں۔ شاید ٹینشن لیتے ہیں اسی لیے۔۔۔
جبکہ اندر کی حقیقت کسی کو نہیں معلوم؛
اصل یہ بلڈ پریشر جسمانی بیماری نہیں ہوتی۔۔۔
بلکہ یہ تو آپ کا اوورتھنکگ، فارغ رہنا۔۔۔ جس آزمائش و پریشانی کا شکار ہے صرف اسی کا سوچ سوچ کر پریشان ہونا کہ کیسے دور ہوں گی وغیرہ وغیرہ۔۔۔
اور اللہ سے دوری کی وجہ سے ہے۔
شکرگزاری زندگی کو کیسے بدل دیتی ہے؟
بجائے اس کے کہ آپ جو نعمتیں و رحمتیں اللہ نے آپ کو دی اس پر راضی ہو کر شکر ادا کرتے آپ اس ایک چیز کے لیے پریشان ہے جو فی الحال نہیں ہے۔ وہ آپ کے اختیار میں نہیں صرف اسی کا سوچ سوچ کر اپنی زندگی خراب کی ہوئی ہے۔ موجود لمحوں سے لطف اندوز ہونے کے بجائے۔۔۔ اسی پریشانی کے غم میں گھل رہے ہیں کہ کیسے دور ہوں گی کب وہ نعمت ملے گی جس کے آپ خواہش مند ہے۔ آپ وہ پریشانی دور ہوں گی اسی انتظار میں زندگی کے دن گزار رہے ہیں۔
اور خود کو بلڈ پریشر کے مریض بنا کر بس زندگی کو گزارنے کے بجائے زندگی آپ کو گزار رہی ہے۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ
آپ اللہ کی رضا میں راضی ہوجاتے ہیں۔ جو ملا اس پر شکر ادا کرتے اور جو نہیں ملا اس کو اللہ سے مانگتے ۔۔۔ آپ کے شکر ادا کرنے کی بدولت اللہ کریم آپ کو وہ سب بھی دیتے جو آپ حاصل کرنا چاہتے ہیں کیونکہ اللہ کا وعدہ ہے کہ جو شکر ادا کرتا ہے اسے میں مزید بھی عطا کروں گا۔ اللہ اپنے وعدے کو پورا کرنے والا ہے۔
تو بس جو چیز آپ کے اختیار میں نہیں؛
اس پر مزید جلنے، کڑھنے اور غمگین و پریشان ہونے کے بجائے آپ اپنی زندگی کا ایک مقصد متعین کیجئے۔ اس کو حاصل کرنے کے لیے ڈٹ جائیں۔ جب آپ کا دھیان اپنے مقاصد کی طرف ہوگا تو آپ خود بخود ٹھیک ہوتے چلے جائیں گے۔ زندگی جینا شروع کر دیں گے۔
اور ساتھ ہی اپنا دل اللہ کے ساتھ لگا لیجئے۔ کیونکہ کامیابی کے لیے اپنے مقاصد کو پورا کرنے کے اللہ کا ساتھ لازم و ملزوم ہے۔ پہلے اللہ کے حقوق ادا کیجئے اللہ آپ کے سارے کام اپنے ذمہ لے لیں گے۔ فجر میں جلدی اٹھیں۔  5 وقت کی نماز ادا کیجئے۔ قرآن کی تلاوت دیکھ کر۔۔۔ یومیہ 1 پارہ تو لازمی کیجئے۔ اس سے آپ کو سکون قلب حاصل ہوگا۔
مختصر درودشریف کو دن میں 1000 مرتبہ لازمی پڑھیے بزرگوں سے منقول ہے کہ جو بھی 1000 مرتبہ دردو شریف روزانہ پڑھتا ہے اللہ اسے خوش و خرم رکھتا ہے۔ اس کی پریشانیاں دور ہو جاتی ہے۔ اور اگر کوئی کثرتِ سے پڑھیں تو حدیث کے مفہوم کے مطابق اللہ کریم کثرت سے درود شریف پڑھنے والے کے سارے غموں کو دور کر دیتے ہیں۔
واک کیجئے۔ استغفرُللہ کو کثرت سے پڑھیے۔۔۔ ایک ساتھ دو دو کام۔۔۔ یعنی واک کے ساتھ ساتھ استغفرُللہ کا ورد کیجئے ہر مشکل سے اللہ نکال دے گا۔
اس کے علاؤہ اگر آپ مکمل طور پر ان سب سے نکلنا چاہتے ہیں تو پھر استغفار کی کثرت کیجئے۔
کیونکہ اکثر اوقات کسی انسان کو کوئی غم لاحق ہو جاتا ہے تو وہ مختلف پریشانیوں، تکالیف اور غم کی کیفیات سے گزرتا ہے۔ ان کیفیات میں انسان خود کو بے بس محسوس کرتا ہے۔ اور وہ غم/صدمہ جو اسے لاحق ہوتا ہے اندر تک جلا دیتا ہے۔ اسے سمجھ نہیں آتی کہ آیا ان سب سے نکلیں!!؟
کیسے میری روح کو سکون ملے!!؟
کیسے میری زندگی سے یہ پریشانی ختم ہو!!!
دنیا کی بہت ساری نعمتیں ہونے کے باوجود اسے وہ غم کھا رہا ہوتا ہے اور اندر ہی اندر وہ ختم ہوتا جا رہا ہوتا ہے۔ لیکن ان سب سے نکلنے کا راستہ اسے نظر نہیں آرہا ہوتا!
ایسے میں کیا کیا جائیں کہ ان سب سے بآسانی نکلا جا سکیں!!؟
کثرت استغفار کو اپنے اوپر لازم کر لیجیے؛
مشکوٰۃ کی حدیث مبارکہ:
“جو استغفار کو لازم کر لیتا ہے اللّٰه تعالیٰ ہر تنگی سے اسے نجات عطا فرما دیتے ہیں۔”
استغفار کے حیرت انگیز فوائد
یعنی آپ جس بھی مشکل میں ہوں گے اگر کثرت سے استغفار پڑھیں گے تو آپ ہر مشکل سے نکال دئیے جائیں گے چاہیں وہ کیسی ہی مشکل ہو، نجات کا راستہ مل جائے گا۔
دوسرا کیسا ہی شدید غم جو جان کو گھلا دیتا ہے، اس سے اللہ نکال دیتا ہے۔
اور تیسری برکت استغفار کی یہ ہوتی ہیں کہ ایسی جگہ سے رزق ملتا ہے انسان کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا۔
المختصر! خود کو مثبت مقاصد کی طرف مصروف کریں۔ ذہن اپنا مقصد کی طرف ہی لگائیں، مثبت سوچ کی جانب لگائیں اور سب سے بڑھ کر، جو بھی غم آپ کو لاحق ہو، بس آپ استغفار کی کثرت کریں، اللہ ہر غم سے نجات عطا فرما دیں گے، ان شاءاللہ تعالیٰ۔
مریم حسن
سوال: اوورتھنکنگ اور غم سے نجات کیسے حاصل کریں؟
جواب: استغفار، نماز، مثبت سوچ، شکرگزاری اور مفید مصروفیات اوورتھنکنگ کم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
سوال: استغفار کے کیا فوائد ہیں؟
جواب: استغفار دل کو سکون دیتا ہے، پریشانی کم کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کا ذریعہ بنتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

متعلقہ پوسٹس

Advertisment

مشہور پوسٹ