غصہ، اینزائٹی اور بلڈ پریشر — خود کو پرسکون رکھنے کے اسلامی اور نفسیاتی اصول

ڈپریشن
جب بلڈ پریشر بڑھا ہوا ہو تو کیسے کم کریں!!؟
بلڈ پریشر کیسے کم کریں، اس کے بجائے پہلے ہم بات کرتے ہیں کہ یہ کیوں بڑھتا ہے!!؟
جب کوئی بات آپ کی مرضی کے خلاف ہو جائیں، آپ کی امید پوری نہ ہو تو آپ ہرٹ ہوتے ہیں۔ پھر کے دل میں خیالات پیدا ہوتے ہیں کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ اس کے بعد آپ کے غصے والے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ آپ اپنے غصے پر قابو نہیں کر پاتے، کیوں کہ ہم نے سیکھا ہی نہیں جب غصے کے جذبات پیدا ہو تو ہمیں کیسے اسے ہینڈل کرنا ہے۔ کس طرح اپنے آپ کو ٹھنڈا کرنا ہے۔
 جب ہمیں غصہ آتا ہے تو ایسی کیفیت انسان کی پیدا ہو جاتی ہیں کہ وہ پریشان ہو جاتا ہے۔ اور اس کے کنٹرول میں نہیں ہوتا کہ کس کو کیا کہنا ہے اور کیا نہیں کہنا! جذبات پر کنٹرول نہ ہونے کی وجہ سے اپنا غصہ کہیں اور نکال دیا جاتا ہے۔
 اس طرح دوسروں کا ہم دل توڑ دیتے ہیں۔ جب ہماری یہ حالت ہوتی ہیں تو جن کا ہم دل توڑتے ہیں ان کی کیا حالت ہوتی ہوگی!!؟ ہمیں جب اپنی صحت کا خیال نہیں ہوتا، احساس نہیں ہوتا تو ہم دوسروں کا کیا خیال کریں گے!!؟ ہم یہ سوچتے ہی نہیں کہ ہمارے ساتھ ساتھ دوسروں پر جو ہم غصہ اتار دیتے ہیں ان کی کیفیات ہوتی ہوگی!!؟
اگر سامنے والا جذباتی طور پر مضبوط نہ ہوا، حساس ہوا تو وہ الگ ذہنی طور پر ڈسٹرب ہوگا۔ اور سب سے بڑھ کر آپ کا امیج سب گھر والوں کے سامنے، غصے والے انسان کے طور پر بن جاتا ہے۔ڈپریشن
ہم بات یہی کر رہے تھے کہ وہ کیوں بڑھتا ہے!!؟ تو جب آپ غصے پر کنٹرول نہیں رکھ پاتے! اسی طرح پھر آپ کی یہ عادت بن جاتی ہیں، اور آہستہ آہستہ آپ اوورتھنکنگ کا شکار ہوتے ہیں، ذہنی دباؤ و اینزائٹی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ پھر بلڈ پریشر آپ کی زندگی کا حصہ بننا شروع ہو جاتا ہے۔
لیکن اگر آپ جذباتی طور پر مضبوط ہوتے ہیں تو آپ کو علم ہوتا ہے کہ کیسے جذبات کو ہینڈل کرنا ہے۔ آپ پھر صحت مند جذبات کے مالک ہوتے ہیں اور آپ کی صحت بھی بہترین ہوتی ہیں۔ آپ سب کے دلوں میں ایک مقام رکھتے ہیں۔ ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن جاتے ہیں۔
اب بات کرتے ہیں کہ کیسے کم کرنا ہے!!؟
جب آپ کو علم ہو کہ آپ کو غصہ آرہا ہے۔ یا کسی بات پر آپ کا دل ٹوٹا ہے۔ یا کوئی امید پوری نہیں ہوئی، یا کسی سے آپ، کوئی امید رکھیں ہوتے ہیں وہ آپ کی مرضی کا جواب نہ ملے تو آپ کو غصہ آتا ہے، کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے!!؟ لیکن یہ سب آپ کے اختیار میں نہیں ہوتا۔ آپ کسی کو نہیں بدل سکتے!
لیکن جو چیز آپ کے اختیار میں ہے وہ یہی ہے کہ آپ خود کو بدل سکتے ہیں بس!
تو آپ خود کو بدل لیجئے۔ کسی سے امید رکھی ہے وہ پوری نہ ہو، تو مایوس نہ ہو، مثبت سوچیں کہ ہو سکتا ہے سامنے والا مصروف ہو، یا کوئئ بات آپ کی مرضی کے خلاف ہو جائیں تو تھوڑا سا برداشت کر لیں، صبر سے کام لیجئے۔
 یا پھر گھر میں کسی بات میں اختلاف ہو جائیں اور غصہ آرہا ہے تو اٹھ کر کہیں اور چلے جائیں، تاکہ اختلافات نہ بڑھیں۔ غصے میں آپ کوئی، یا کچھ آپ ایسا سنا دیں جو کہنا نہیں چاہیے پھر آپ کو افسوس کرنا پڑے بعد میں! اٹھ جائیں کیونکہ حرکت میں برکت ہے۔ وضو کر لیں، اپنے آپ کو سجھیں، اور سمجھائیں خود کو، کہ اس وقت جذبات کو کنٹرول کرنا سب سے اہم ہے۔
سورہ ال عمران کی آیت 134
وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ ۗ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ ترجمہ”(یہ وہ لوگ ہیں جو) غصہ پینے والے ہیں اور لوگوں سے (ان کے قصور) معاف کرنے والے ہیں، اور اللہ نیکوکاروں سے محبت کرتا ہے”۔
وقولوا للناس حسنا
“اور لوگوں سے اچھے طریقے سے بات کرو”
صبح و شام کی حفاظت کی دعائیں لازمی پڑھا کریں۔ اپنے اوپر دم کر لیجئے۔ بیٹھے ہوئے ہیں تو اٹھ کر کسی کام میں لگ جائیں۔ کچھ سمیت لیں اردگرد، مطلب آپ نے چلنے پھرنے والا کام کرنا ہے۔ واک لازمی کریں اور ساتھ استغفرُللہ کا ورد، اس طرح جب آپ کچھ سیٹ ہو جائیں پھر سوچیں کہ مجھے کیا کرنا چاہیے تھا؟۔ اور میں کیا کرنے والا تھا؟۔
رات کی نیند ٹائم پر پوری کریں۔ کیونکہ بلڈ پریشر کے نارمل ہونا، ذہنی دباؤ، ٹینشن میں سارا مین رول رات کی نیند کا پورا وقت پر نہ ہونا بھی شامل ہے۔ اور جدید ریسرچ کے مطابق رات کی نیند کا اصل وقت 10 بجے سے 2 بجے تک کا ہے۔ جب نیند پوری ہوگی تو ذہن ریلکس ہوگا اور جب ذہن ریلکس ہوگا تو آپ فریش رہیں گے اور آپ کے سارے کام وقت پر ہوں گے۔
اپنا لائف سٹائل تبدیل کریں۔ رات کی نیند پوری ہونے ساتھ ساتھ آپ کی واک بھی آپ کی زندگی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ واک کے ساتھ استغفرُللہ کا ورد 1200 مرتبہ پڑھ لیں۔ ایک تیر سے دو شکار، اور استغفار کی برکت سے اللہ ہر مشکل سے آپ کو نکال دیتا ہے۔ اس کی افادیت کے حوالے سے الگ سے بات کروں گی۔ اور 300 مرتبہ لاحول ولا قوہ الا بااللہ بھی پڑھیں اگر آسانی ہو، یا دن میں کسی وقت، کیونکہ اس کے پڑھنے کی برکت سے  99 بیماریوں میں سب سے ہلکی بیماری غم سے نجات کا ملنا ہے۔
ساتھ ہی آپ سب سے پہلے اللہ سے شئیر کریں دل کا حال، اپنی پریشانیاں کہ اے رب محبت! میری تمام پریشانیاں عافیت کے ساتھ دور کر دیجئے۔ ہر مشکل سے عافیت کے ساتھ نکال دیجئے۔ پھر دیکھیے گا کہ کیسے رب محبت آپ کے دل کو پُرسکون کر دے گا۔ اور اس کے ساتھ ہی جو بات آپ کو پریشان کر رہی ہیں اپنی سسٹر، یا مخلص دوست جو آپ سمجھیں ان سے دل کا حال شئیر کریں۔ ہر لڑکی یا عورت کی ایک سہیلی کا ہونا زندگی میں بہت ضروری ہے جس سے دل کا حال ہلکا کیا جا سکیں۔ دوست تو بہت بڑی نعمت ہوتے ہیں۔
اور ان سب سے پہلے آپ ایک کاپی قلم لیجئے۔ جو بات آپ کو پریشان کر رہی ہیں وہ لکھیں۔ اپنی کیفیات لکھیں کہ کیا ہو رہا ہے۔ کیسا محسوس کر رہے ہیں اور کس وجہ سے!؟؟ اور پھر اس کے حل کی طرف جائیں۔ کوئی نہ کوئی حل ضرور نکلے گا۔ آپ وہی کیجئے جو آپ کرنا چاہتے ہیں زندگی میں، دوسروں کی وجہ سے اپنے زندگی کے فیصلے تبدیل نہ کیجئے.
دل
نوٹ: (یہ عمومی بات کی بلڈ پریشر نارمل کرنے کے حوالے سے، کہ جن کا ویسے ہی کبھی کبھار بڑھ جاتا ہو لیکن جن کا بلڈ پریشر زیادہ ہوتا ہو، دوا کے علاؤہ کنٹرول نہ ہوتا ہو تو وہ ڈاکٹر سے باقاعدہ علاج چل رہا ہو میڈیکل تو وہ میڈیکل کی دوا کے ساتھ یہ طریقہ کار استعمال کریں۔ آہستہ آہستہ دوا اور ان باتوں پر عمل کرنے سے، آپ نارمل کی طرف آ جائیں گے، ان شاءاللہ تعالیٰ۔)
جب آپ یہ سب کریں گے تو یقین کیجئے آپ کا ذہنی تناؤ کافی حد تک کم ہوجائے گا۔ اور آپ ریلکس ہو جائیں گے۔ اس طرح آہستہ آہستہ آپ کو اپنے جذبات کو کنٹرول کرنا آجائے گا۔ آپ کو جب غصہ آئے گا تو آپ خود کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ اور غصہ کم کرنے کی عادت بنائیں کیونکہ اللہ کو غصہ پی جانے والے، لوگوں کو معاف کرنے والے لوگ پسند ہیں۔ اور جب آہستہ آہستہ آپ خود کو غصہ کم کرنے کی عادت بنائیں گے تو آپ کو ایسی جب سچوئیشن پیدا ہوگی آپ کو غصہ کنٹرول کرنا آجائے گا۔ سب سے بڑھ کر آپ بلڈ پریشر نارمل کی طرف آئے گا اور آپ ایک صحت مند جذبات کے مالک انسان بن جائیں گے، ان شاءاللہ تعالیٰ۔
مریم حسن

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

متعلقہ پوسٹس

Advertisment

مشہور پوسٹ