مسکراتے رہنے کے فائدے | خوش رہنے اور مثبت زندگی کا راز

مسکراتے رہنے کے فائدے اور خوش رہنے کا طریقہ
مسکراتے رہنا کیوں ضروری ہے؟
اگر آپ خوش رہنا چاہتے ہیں تو مسکراہٹ کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیجئے؛
مسکراتے رہنا کتنا اہم ہے۔ اس کی تصدیق اس شعر سے بھی ہوتی ہے۔
“مسرت کو بنالو زندگی کا  اصول!
کہ سب پھینک دیتے ہیں مرجھائے ہوئے پھول”

 

مسکرانا نبی کریم ﷺ کی سنت ہے;

مسکرانا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔
نبی کریم کا معمول تھا کہ آپ کے چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ سجی رہتی تھی۔
عبداللہ الحارث بن حزمؓر روایت کرتے ہیں کہ میں نے آپ سے زیادہ مسکراتے ہوئے کسی کو نہیں دیکھا(ترمذی)۔
جب آپ مسکراہٹ کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیتے ہیں تو سب سے پہلے فایدہ آپ کی اپنی ذات کو ہوتا ہے۔ آپ غم و حزن اور فکر سے نجات پا جاتے ہیں۔ آپ کے روح کے اندر تلک سرشاری کا احساس جاگزیں ہو جاتا ہے۔ سب سے بڑھ کر دل مطمئن ہو جاتا ہے۔ حضرت ابو درداء فرماتے ہیں: “میں اس لیے ہنستا ہوں کہ میرے قلب کو اطمینان ملے”۔
 جب ہم مسکراہٹ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سمجھ کر عمل کرتے ہیں تو ہم سنت کو زندہ کر رہے ہوتے ہیں۔ اور ایک سنت کو زندہ کرنے پر 💯 شھیدوں کا ثواب ملتا ہے۔ اور جو سنت زندہ کی، اس کا الگ اجر ملتا ہے۔
مسکراہٹ دوسروں کے لیے صدقہ کیسے ہے؟
حدیث مبارکہ ہے
“نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے بھائی کے سامنے تمہارا مسکرانا صدقہ ہے”(ترمذی)۔
عربوں کے ہاں ہنسنے والوں کی تعریف کی جاتی ہے۔ اور اسے کشادہ دلی، سخاوت اور حسن اخلاق کی اعلی نشانی سمجھا جاتا ہے۔
آپ کسی کو کچھ دے نہیں سکتے تو کم از کم اچھے اخلاق سے مسکرا کر تو مل سکتے ہیں نا!!؟؟
 آپ کا یہ ملنا سامنے والے پر اچھا تاثر پیدا کرے گا۔ اور سب سے بڑھ کر مسکرا کر ملنا یہ بھی صدقہ میں شمار ہوتا ہے۔ ہم سنت پر عمل کرکے، اللہ سے اجر کی امید رکھ کر اپنے مسلمان بہن بھائیوں کے لیے اتنا تو کر سکتے ہیں۔
40 دن مسکراہٹ کی عادت اپنانے کا طریقہ
کسی بھی نئی عادت کو اپنانے میں 40 دن اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر آپ 40 دن صرف اس عادت کے لیے خود پر نظر رکھ لیتے ہیں۔ کہ میں نے مسکراہٹ کو زندگی کا حصہ بنانا ہے۔ سب سے مسکرا کر ملنا ہے۔ تو یقین کیجئے کہ طبیعت پر ایک اثر پڑے گا۔ اور مسکراہٹ آپ کی زندگی کا حصہ بنتی چلی جائے گی۔
کیوں کہ انسان جس عادت کو اپنا لیتا ہے تو اسے لگتا ہے کہ یہ اس کئ زندگی کا حصہ ہے۔ اور اسے وہ بس وہ روزہ مرہ زندگی کے روٹین کے کاموں کی طرح کرتا چلا جاتا ہے۔ ٹھیک اسی طرح جب آپ 40 دن نظر رکھی۔ گے۔ شروع میں مشکل ہوگی۔ مگر جب عادت بنا لیں گے تو یہ آپ کی شخصیت کا حصہ بن جائے گی۔ اور آپ ایک اچھی عادت کے مالک بن جائیں گے۔
خوش رہنے کے لیے مثبت عادات کیوں ضروری ہیں؟
جیسے اداسی شخصیت کا حصہ بن جاتی ہے۔ تو وہ ایسے نہیں بن جاتی۔ بلکہ آپ نے اس عادت کو زندگی کا حصہ بنایا ہوتا ہے۔ لیکن جب آپ ذرا کوشش کرتے ہیں۔ خود کو مثبت سرگرمیوں میں مصروف رکھتے ہیں۔ اداسی کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے کوششیں شروع کرتے ہیں۔ مراقبہ، ورزش و ایکسر سائز۔۔ مقاصد، اللہ سے دعا اور شکر گزاری کی صفت کو اپناتے ہیں تو اداسی سے نجات پا جاتے ہیں۔ ٹھیک اسی طرح آپ کسی بھی اچھی بری عادت کو اپنانے کے لیے کوششیں کرنی ہوتی ہے۔
جب آپ کوشش کرتے ہیں تو آپ ضرور کامیاب ہوتے ہیں۔
مسکراہٹ سے ماحول کیسے خوبصورت ہوتا ہے؟
اور جب آپ مسکراتے ہیں تو پورا ماحول مسکراتا ہے۔ آپ کو اپنا اردگرد خوبصورت نظر آنے لگتا ہے۔ پھول، پرندے اور جنگلات۔۔ آسماں و زمین اور صبح و شام یہ سب خوشیاں بکھیرتے ہیں۔ فطرتی طور پر انسان خوش مزاج ہے۔ مگر انانیت، شر وغیرہ اسے ترش مزاج بنا دیتے ہیں۔ اور پھر آپ کو کچھ اچھا دکھائی نہیں دیتا۔ جب آپ اندر سے خوش نہیں ہوتے تو باہر کی فضا بھی اچھی نہیں لگتی۔ لیکن جب مسکراہٹ کو زندگی کا حصہ بنا لیتے ہیں تو آپ کو سب کچھ اچھا لگنے لگ جاتا ہے۔

زندگی زندہ دلی سے جینے کا نام ہے،  مردہ دل خاک جیا کرتے ہیں۔
جب آپ مسکراہٹ کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیتے ہیں تو سب سے پہلے فایدہ آپ کی اپنی ذات کو ہوتا ہے۔ آپ غم و حزن اور فکر سے نجات پا جاتے ہیں۔ آپ کے روح کے اندر تلک سرشاری کا احساس جاگزیں ہو جاتا ہے۔ سب سے بڑھ کر دل مطمئن ہو جاتا ہے۔
مسکراہٹ کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیے
المختصر یہ ہے کہ اگر آپ ہنسنا مسکرانا چاہتے ہیں تو بس پھر آپ مایوسی سے لڑنا سیکھیے؛
مسکرانا تو ایک صفت ہے۔ خوش رہنے کے لیے بہت سی عادات کو زندگی کا حصہ بنانا ہوتا ہے۔ یہ مسکراہٹ ان میں سے ایک ہے۔ ہم خوش رہنے کا فن سیکھ سکیں، اس حوالے سے جلد باقی پر بھی گفتگو کریں گے،  ان شاءاللہ۔
خوش رہنے کا طریقہ
خوش رہنے کا فن کیسے سیکھیں؟
آہستہ آہستہ خود پر کام کیجئے۔ روزانہ کیجئے۔ بہتری کی طرف قدم بڑھاتے چلے جائیں۔ آپ ہر دن بہتری کی طرف گامزن ہو جائیں گے۔ زندگی میں شکر گزاری کی صفت کو اپنانے کی کوشش کریں۔ مسکراہٹ کو زندگی کا لازمی جز بنا لیجئے۔ تاکہ آپ دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کر سکیں۔ آپ کو دیکھ کر دوسرے بھی مسکرا سکیں۔ گھر والوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آئے۔ تاکہ آپ کے آنے کا انتظار کیا جائے۔ آپ سے محبت کی جائے۔ سب سے بڑھ کر اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کے لیے بھی مفید بن جائیں۔ شاعر کے بقول:
 زندگی زندہ دلی سے جینے کا نام ہے،
مردہ دل خاک جیا کرتے ہیں۔
زندگی کو خود بھی جینا سیکھیے؛ اور اس کے ساتھ دوسروں کو بھی سکھائیں۔ تاکہ دوسرے بھی آپ کو دیکھ کر زندہ دل انسان بن سکیں۔
مریم حسن

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

متعلقہ پوسٹس

Advertisment

مشہور پوسٹ